پاکستان میں بجلی کی قیمتیں 2026

کیا واقعی بل کم استعمال کے باوجود بڑھے گا؟

اگر آپ کو لگتا ہے کہ بجلی کا بل صرف یونٹس پر منحصر ہوتا ہے، تو 2026 میں یہ سوچ بدلنے والی ہے۔

پاکستان میں بجلی کے نظام میں ایک بڑی ساختی تبدیلی آ رہی ہے۔ اب بل صرف استعمال کی بنیاد پر نہیں بلکہ پورے پاور سسٹم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگوں کو یہ شکایت ہو رہی ہے:

“ہم نے بجلی کم استعمال کی، پھر بھی بل زیادہ کیوں آیا؟”

آئیے سادہ اور واضح انداز میں سمجھتے ہیں۔


🔍 اصل مسئلہ کیا ہے؟

پاکستان میں بجلی کی قیمت تین بڑے عوامل سے متاثر ہوتی ہے:

1️⃣ آئی ایم ایف اصلاحات

حکومت کو سبسڈی کم کرنی ہے اور بجلی کی اصل لاگت عوام سے وصول کرنی ہے۔
یعنی اب حکومت کم ادا کرے گی، صارف زیادہ۔

2️⃣ سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضہ)

بجلی بنانے والی کمپنیوں کو اربوں روپے کی ادائیگیاں باقی ہیں۔ یہ رقم آخرکار عوام سے ہی وصول کی جاتی ہے۔

3️⃣ کیپیسٹی پیمنٹس

پاکستان نے کئی پاور پلانٹس لگائے ہیں۔
چاہے بجلی بنے یا نہ بنے، ان کو ادائیگی کرنا لازمی ہے۔

👉 مطلب: آپ صرف بجلی نہیں خرید رہے، آپ پورا سسٹم چلا رہے ہیں۔


📄 نیا بلنگ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟

آپ کا بجلی کا بل اب تین حصوں میں تقسیم ہے:

✔ فکسڈ چارجز

صرف میٹر رکھنے کی فیس — چاہے یونٹ صفر ہوں۔

✔ کیپیسٹی چارجز

پاور پلانٹس کو “تیار رہنے” کی ادائیگی۔

✔ انرجی چارجز

اصل استعمال شدہ یونٹس کی قیمت۔

اس لیے اگر آپ استعمال کم بھی کریں تو بل مکمل طور پر کم نہیں ہوگا۔

بجلی اب “استعمال کی چیز” کم اور “سسٹم کی فیس” زیادہ بنتی جا رہی ہے۔


💰 2026 میں بجلی کتنی مہنگی ہو سکتی ہے؟

سرکاری ریٹ کچھ بھی ہو، اصل بل میں شامل ہوتے ہیں:

  • فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز
  • ٹیکسز
  • کوارٹرلی ایڈجسٹمنٹ
  • سرچارجز

📊 اندازاً مؤثر فی یونٹ قیمت

صورتحالمتوقع قیمت (فی یونٹ)
بہترین صورت50 – 60 روپے
زیادہ ممکنہ65 – 85 روپے
بحران کی صورت90 – 120 روپے

زیادہ امکان یہی ہے کہ 2026 کے آخر تک شہری متوسط طبقے کے لیے قیمت:

70 سے 90 روپے فی یونٹ

گرمیوں میں یہ بل مزید زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور زیادہ استعمال شامل ہو جاتا ہے۔


🏭 صنعت کو ریلیف، گھریلو صارف پر بوجھ کیوں؟

حکومت کی ترجیح برآمدات اور صنعت کو سہارا دینا ہے۔
اسی لیے صنعتی نرخ کم کیے جا رہے ہیں جبکہ گھریلو صارفین پر بوجھ منتقل کیا جا رہا ہے۔

یعنی:

سبسڈی کم → صنعت کو سہارا → گھریلو بل میں اضافہ


☀ سولر سسٹمز کی طرف رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

نئے نظام میں:

  • یونٹس کم کرنے سے مکمل بچت نہیں
  • فکسڈ چارجز ہر حال میں ادا کرنا ہوں گے

لیکن اگر آپ خود بجلی پیدا کریں تو:

  • فی یونٹ لاگت کم ہو جاتی ہے
  • گرڈ پر انحصار کم ہوتا ہے
  • مستقبل کے اضافے سے تحفظ ملتا ہے

اسی لیے پاکستان میں سولر سسٹمز کی تنصیب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔


📌 2026 کے لیے حقیقت پسندانہ توقعات

✔ سردیوں میں بھی بل صفر نہیں آئے گا
✔ گرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا
✔ بچت کے باوجود فرق محدود ہوگا
✔ بجلی ایک مستقل گھریلو ذمہ داری بنتی جا رہی ہے


🔮 آگے کیا ہوگا؟

یہ وقتی مہنگائی نہیں بلکہ بجلی کے نظام کی مستقل تنظیم نو ہے۔

مقصد سستی بجلی فراہم کرنا نہیں بلکہ پاور سیکٹر کو مالی طور پر مستحکم کرنا ہے۔

عام صارف کے لیے اس کا مطلب ہے:

صرف بچت کافی نہیں رہے گی
توانائی کی منصوبہ بندی ضروری ہوگی


✍ آخری بات

اگر آپ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں تو 2026 میں بجلی کا بل آپ کے ماہانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ بن سکتا ہے۔

اب سوال یہ نہیں کہ
“بل کیوں بڑھ رہا ہے؟”

بلکہ سوال یہ ہے کہ
“ہم اس تبدیلی کے مطابق خود کو کیسے تیار کریں؟”

توانائی کی خودمختاری، منصوبہ بندی اور متبادل ذرائع اب عیش نہیں، ضرورت بنتے جا رہے ہیں۔


Scroll to Top